دستور العمل

دستور العمل  –  کونسل آف علمائے امامیہ شنگن

تعارف

ابتدائیہ : ’’ شینگن ممالک میں موجودبعض علمائے کر ام ‘‘ نے وقت وحالات کے پیش نظر احساس کیا کہ اس وقت اسلامی سرگرمیوں کو بہتر سے بہتر بنانے کے لئے علمائے کرام ، ائمہ مساجد کی ایک تنظیم (یاکمیٹی ) ہو جو اِن ممالک میں رہنے والے مومنین کرام کی اسلامی ضروریات کے لئے کوشاں اور فعال ہو۔ اور اسی کے ساتھ ساتھ تنظیموں کے صدور یادیگردانشور ذ مہ داروں کی ایک مشترکہ تنظیم (یاکمیٹی ) ہو تاکہ آپس میں اتحاد واتفاق کے ساتھ اسلامی تعلیمات کو فروغ دیاجائے ۔ اور شنگن ممالک میں مقیم اردو بولنے اور سمجھنے والے مہاجر
پیروانِ اہلبیت علیہم السلام کے ساتھ ساتھ مستبصریوروپین مسلمانوں کی بھی تعلیم و تربیت کا بندوبست بطور احسن انجام پائے ۔مغربی معاشرہ میں حتی الامکا ن انھیں ذمہ داریوں کو نبھانے اورمسلم امہ کے حقوق و فرائض کے حصول و ادائیگی کے لئے ایک کونسل کی تاسیس وقت کی ضرورت ہے ۔ اسلام و مسلمین سے مربوط شنگن ممالک کے بعض امور جو فقط و فقط علماء و ائمہ ہی کا کام ہے ، اسلامی قوانین و ضوابط کی روشنی میں حکومت اور متعلقہ ذمہ داروں سے ارتباط کے بعد اپنے مشترکہ مشوروں، احکام اور فیصلوں کے اعلان و اظہار کے لئے بھی آزادانہ طور سے کام کرنے کے لئے کونسل کا قیام ناگزیر سمجھا گیا ۔ اس تنظیم میں شینگن ممالک میں مقیم تمام علماء ،ائمہ جمعہ و جماعت حضرات شریک ہو سکتے ہیں ۔ اس ادارہ کا خالصتا کسی بھی سیاسی یا تجارتی تنظیم سے تعلق نہیں ہوگا ۔ شینگن یا پورے یورپ میں موجود کسی بھی ادارے یا مسلم تنظیم سے مقابلے یا اختلاف کا کوئی سلسلہ نہیں ہوگا ۔تاہم اسلامی سیاسی مقاصد پر کام کرنے والے افراد یا ادارے کے ساتھ ممکنہ تعاون ،موجودہ شنگن کے قوانین یا اسلامی عذر مانع نہ ہونے کی صورت میں کوئی حرج نہیں ۔ کونسل کی اردو ، انگریزی اور مقامی زبانیں ہونگی ۔
شق اول ۔ کونسل کا نام ’’ کونسل آف علمائے امامیہ شنگن‘‘ ہوگا ۔
۲۔ کونسل کی رسمی زبان شنگن کی مقامی زبانوں کے ساتھ ساتھ اردو اور انگریزی بھی ہونگی ۔
۳۔ مرکزی دفتر یعنی سکریٹریٹ اوسلو ، ناروے میں ہوگا ۔ جس کی ذمہ داری سید شمشاد حسین رضوی سنبھالیں گے ۔

شق دوم : ۔
اغراض و مقاصد
۱۔ اسلامی تعلیمات کا عمومی اجراء اور نشر و اشاعت کا سلسلہ۔
۲۔ مغربی دنیا اور شنگن ممالک میں اسلام اور تشیع کے خلاف کئے گئے پروپگینڈوں کا تحریر و تقریر سے دفاع ۔
۳۔ موجودہ دور کی تبلیغاتی ٹیکنالوجی : ریڈیو ، ٹی۔ وی ، انٹرنیٹ اورمیگزین وغیرہ کے ذریعہ نشریات کو حتی المقدور فروغ دینا۔
۴۔ بچوں اور جوانوں کے لئے ابتدائی معلوماتی کتاب اور نصابِ دینیات کا اجراء ۔
۵۔ علمائے کرام ، ائمہ (محترم ) مساجد کے حقوق و فرائض کے سلسلے میں حتی الامکان مدد کرنا۔ تنظیموں اور علماء کے درمیان باہمی مفاہمت اور اتحاد واتفاق کی ذہنی ہم آہینگی کو قریب سے قریب تر کرنا ۔
۶۔ شینگن ممالک میں مسلمانون با لخصوص علماء کے درمیان موجودہ بہترین فضا کو تمام فرقہ وارانہ سازشوں اور پروپگیندوں سے محفوظ کرنے کی کوشش کرنا۔
۷۔ رؤیتِ ہلال کی ممکنہ کوشش یا اس سلسلے میں صحیح معلومات کرکے ایک عید اور ایک عاشورہ کی تاریخ کا اعلان کرنا۔
۸۔شیعہ لڑکے اور لڑکیوں کے ازدواجی مسائل کوحل کرنا۔
۹۔ ادیان آسمانی (اسلام،وعیسائیت اور یہودیت) کے درمیان مفاہمت و گفتگو سے روابط برقرارکی جد و جہد۔
۱۰۔حکومتی لحاظ سے اسکولوں کا قائم کرنا ۔
۱۱۔مشرق وسطی اور بر صغیر(پا ک وہند)کے ماحول و معاشرے سے متاثر ہوئے بغیر شنگن ممالک کے معاشرے کے لحاظ سے مسلم کمیونٹی کی دینی ، اخلاقی وسماجی اور روحانی ضروریات کو پیش کرنا ۔
۱۲ ۔ اسلامی مصدقہ خبروں کی ممکنہ صورت میں تائید و حمایت کرنا ۔

شق سوم : حقوق و فرائض :
ممبران کونسل
۱۔ مندرجہ بالا اغراض و مقاصد کی روشنی میں علمائے کرام اس کونسل میں اس طرح نمایاں کردار ادا کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں
گے جس سے ان تمام امور کے ساتھ ساتھ دیگر اور کام انجام پائیں ۔
۲۔ امت مسلمہ میں اصولی احکام کو فروغ دیتے ہوئے فروعی مسائل میں اعتدالی اور غیر اختلافی راہوں کو ہموار کرنا ۔
ممبر شپ کے شرائط :
(۱)شیعہ اثنا عشری ہو۔
(۲) شنگن ممالک میں قانونی طور سے مقیم ہو ۔
(۳)حوزہ علمیہ نجف ، قم المقدسہ یا بر صغیر (پاک و ہند) سے سند یافتہ ہو اور دینی شعائر کا پابند ہو۔
(۴)شنگن ممالک میں کسی دینی ادارہ میں یا الگ رہ کر دینی خدمت کر رہا ہو ۔
(۵)کوئی بھی رکن ،کسی سیاسی یا ایسی تحریک سے وابستہ نہ ہو جو کونسل کی بدنامی کا سبب ہو ۔
(۶) عوام الناس کی نظر میں ’’ذی طلبگی‘‘ کے خلاف کسی دینی و اخلاقی غلطیوں کا مرتکب نہ ہو ۔
(۷)کوئی بھی رکن (عہدیدار) مسلسل تین بار نہیں ہو سکتا۔
(۸)صدر و سکریٹری کو اردو کے علاوہ اپنی مقامی زبان بولنے کی حد تک صلاحیت ہو۔
(۹) صدر کا معمم ہونا ضروری ہے ۔
(۱۰)موسسین کے علاوہ کسی نئے ممبر کی شمولیت کے لئے کونسل کے دو ممبر تصدیق کریں ۔
(۱۱)سالانہ ایک سو’’ ایرو‘‘ (Euro100/-)ممبر شپ ادا کرتا ہو ۔
(۱۲)مرجعیت اور اجتہاد و تقلیدکا مخالف نہ ہو۔

شق چہارم :
ارکان کونسل : ان کا انتخاب دو سال کے لئے ہوگا۔
(۱) صدر (۲) سکریٹری (۳) خازن (۴)سکریٹری نشر و اشاعت ۔
حقوق و فرائض : صدر کے فرائض
(۱) جلسہ کی صدارت کرنا ۔
(۲) مختلف ممالک یا شہروں کے لحاظ سے مختلف کمیٹیوں کی تشکیل دینا۔ لیکن اس کے لئے مقامی عالم دین اور تنظیم کے صدور کے مشورے
اور ضرورت کے لحاظ سے ترجیحات شامل ہونگی ۔
(۳)تمام کمیٹیوں کی پوری نگرانی اور معلومات رکھنا تاکہ شنگن ممالک کی مشکلات اور اس کے حل کی کوششوں کو بروئے کار لایا جا سکے ۔
(۴) ارکان کونسل کی میٹنگوں کی کاروائی اور نتیجہء عمل پر نظر ثانی یا آخری فیصلہ اس طرح کرنا کہ ارکان کونسل مطمئن ہو سکیں ۔
(۵) ضرورت وقت کے لحاظ سے ہنگامی میٹنگ طلب کرنا ۔
(۶) کسی بھی رکن کی تبدیلی کے لئے کسی نئے نام کو کونسل کے سامنے تجویز پیش کرنا ۔
(۷) کسی اہم کانفرنس یا اجلاس میں شرکت کے لئے اندرون ملک یا بیرون ملک مین نمائندگی کرنا یا اپنی نمائندگی میں کسی کو بھیجنا ۔ لیکن شخصی دعوت کی بنا پر وہ آزادانہ طور سے کہیں بھی شرکت کر سکتا ہے جو کونسل کے مقاصد کے خلاف نہ ہو ۔
(۸) صدر اپنے فرائض کی ادائیگی میں اگر کوتاہی کرے یا نا اہل ہو تو کونسل کے دو تہائی ممبران کے فیصلے سے اس عہدہ سے اُسے سبکدوش کیا جا سکتا ہے ۔
(۹) صدر ایک معینہ رقم (جس کی تعیین بعد میں ہوگی )خرچ کر سکتا ہے ورنہ وہ کونسل سے پوچھ لے ۔
سکریٹری کے فرائض :
(۱) کونسل کے تمام ریکارڈ کی حفاظت کرنا ۔
(۲)صدر کے مشورے سے اجلاس کی تاریخ طے کرنا ۔
(۳) نئے منتخب سکریٹری کو کونسل کے تمام ریکارڈ سپرد کرنا اور کچھ مدت تک اس کی مدد کرنا ۔

خازن کے فرائض :

(۱) کونسل کی مالیات اور ممبران کی ممبرشپ کے ریکارڈ کو ہمیشہ درست و آمادہ رکھنا ۔
(۲) صدر کے ساتھ مل کر کونسل کے نام اجازہ وجوہات و رقومات شرعیہ حاصل کرنا اور اجازہ کی روشنی میں کونسل کے فیصلے سے خرچ کرنا ۔
(۳)خازن اپنی صوابدید پر کوئی رقم خرچ نہیں کر سکتا ۔

سکریٹری نشر و اشاعت کے فرائض :

(۱) صدر اور سکریٹری کے مشورے کے بعد نئے اجلاس کا خط ، ایجنڈا کے ساتھ ارسال کرنا یا فون و ای۔میل سے مطلع کرنا ۔
(۲) میٹنگ میں ہونے والے فیصلوں اور بعض اہم فیصلہ کن تجاویز کو لکھنا ۔
(۳) کونسل کی مدد سے نشر و اشاعت کے تمام کاموں کی ذمہ داری کو نبھانا ۔
شق پنجم :
طریقہ انتخاب :
(۱) دستور العمل میں موجودہ شرائط کے لحاظ سے کسی بھی عہدے کے لئے اپنانام خود پیش کرنا۔
(۲) کسی بھی رکن کا دوسرے کسی عہدے کے لئے پیش کرنا اور دو رکن کی تائید کے بعد ووٹنگ کرنا۔
(۳) ووٹنگ تحریری اور خفیہ ہوگی ۔
استعفیٰ :
کونسل کے کسی بھی رکن کا استعفیٰ اکثریت رائے کے بعد مندرجہ ذیل طریقے سے قبول کیا جائے گا ۔
(۱)رکن کونسل خود استعفیٰ دے ۔
(۲)دستورالعمل کی خلاف ورزی کی صورت میں رکنیت اور عہدے پر کونسل نظر ثانی کرے ۔

ممبرشپ کینسل کی صورت :
(۱)مسلسل چار میٹنگوں سے بلا عذر شرعی غائب ہونے کی صورت میں۔
(۲)ممبرشپکی ادایئگی نہ کرنے کی صورت میں۔
(۳)کسی بھی ممبر شپ کے شرائط نہ ہونے کی صورت میں ۔
(۴)صفائی اور معقول عذر خواہی کی صورت میں ممبر شپ بحال ہو سکتی ہے ۔
(۵)دستورالعمل کی خلاف ورزی کی صورت میں ۔
نوٹ :
شنگن میں مقیم علمائے کرام اور ائمہ مراکز(مساجد) : جناب مولانا مقبول احمد صاحب قبلہ (ترولہتن ، سوئیڈن )مولانا سید مرید حسین نقوی صاحب (کوپنہیگن ، ڈنمارک) ،جناب مولانا سید شمشاد حسین رضوی (اوسلو، ناروے ) ،جناب مولانا شیخ ذاکر حسین صاحب مشتا(اسٹوکہولم) ، سوئیڈن ،جناب مولانا سید احمد رضا صاحب حسینی (ڈین ہاگ ، ہالینڈ) ،جناب مولانا ساجد علی جعفری صاحب ،
( بلجیم) جناب مولانا سجاد حیدر قمی صاحب (بارسلونا، اسپین ، ) اورجناب مولانا ریاض صاحب ( میلان ، اٹلی ) کے سامنے اس دستور العمل کا مسودہ بروز ہفتہ بتاریخ ۱۶ ؍شوال ۱۴۲۶ ؁ ھ مطابق 19.11.2005 شہر میلان ، اٹلی میں جناب سید عمران شاہ بخاری صاحب کے دفتر (گھر) میں ،پڑھا گیا، جواصلاحات اور ترمیمات کے بعد یہ دستور العمل سب کی تائید سے منظور کیا گیا ۔
والسلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
ُ مرتب ِ مُسودہ : سید شمشاد حسین رضوی ، اوسلو ناروے
مورخہ ۱۱؍ذیقعدہ۱۴۲۶ ؁ ھ مطابق 13.12.2005