مقبول احمد نوگانوی

بسمہ سبحانہ تعالی
مختصر حالات زندگی مقبول احمد نوگانوی
میری تاریخ پیدائش ۱۵جنوری ۱۹۴۲بمطابق ۱۳۶۱ہے مغربی اتردیش کی مردم خیز بستی نوگانواں سادات ہندوستان وطن ہے والد ماجد غفور احمد صاحب مرحوم دیندار انسان تھے ابتدائی تعلیم مدرسہ باب العلم نوگانواں سادات میں مولانا سید جواد اصغر ناطق، مولانا سید رضاحسین صاحب، اور سیدالفقہاء آقا حیدر صاحب قبلہ مرحوم کی زیر سایہ حاصل کی اسی دوران علی گڑھ یونیورسٹی سے ادیب، ادیب ماہر اور ادیب کامل کے امتحانات پاس کیے ۔
۱۹۵۷میں درجہ عالم میں کامیاب ہو کر لکھنو کا عزم کیا اور وہاں جامعہ ناظمیہ میں زیر تعلیم رہ کر مدرسہ کی آخری سند ممتاز الافاضل حاصل کی اس کے علاوہ شیعہ عربی کالج سے عماد التفسیر کی سند حاصل کی اور لکھنو یونیورسٹی سے فاضل تفسیر کی حیدرآباد دکن سے بائبل کا مراسلاتی کورس کیا اور زندگی کا نور کی سند حاصل کی لکھنو میں سرکار مفتی اعظم احمد علی صاحب قبلہ طاب سراہ سابق پرنسپل جامعہ ناظمیہ ، مولانا حکیم محمد اطہر صاحب مرحوم ، مولانا سید محسن نواب صاحب مرحوم ، مولانا سید رسول احمد صاحب مرحوم ، مولانا سید ایوب حسین صاحب مرحوم مولانا سعادت حسین خان صاحب قبلہ مرحوم آیت اللہ الحاج سید علی نقی (نقن)صاحب قدس سرہ جیسے جید اساتذہ سے کسب علم و فن کیا تعلیم سے فراغت کے بعد ۱۹۶۲سے ۱۹۶۵ تک کبرا کچھ میں امام جمعہ و جماعت کے فرائض انجام دیئے اور چار پانچ آغاخانی خاندان شیعہ کیے ۱۹۶۵ میں ایسٹ افریقہ کا سفر کیا اور ۱۹۷۰میں وہیں سے حج بیت اللہ سے مشرف ہوا افریقہ میں مختلف خوجہ جماعتوں میں امامت و خطابت کی ذمہ داری انجام دی ۱۹۶۷ میں سروٹی یوگنڈا میں دو آغاخانی خاندان شیعہ کیے ۱۹۶۸ ست ۱۹۷۱ تک ٹانگا ٹنزانیہ میں خدمات انجام دیں ۱۹۷۱ میں افریقہ چھوڑ کر مقبرہ عالیہ رام پور یوپی انڈیا میں امام جمعہ و جماعت کی حیثیت سے کام کیا اور تبلیغ میں مصروف رہا ۱۹۷۵ میں ترولہتن سویڈن کا سفر کیا یہاں پہنچا تو تبلیغ کا دائرہ وسیع ہوگیا اور انگلینڈ ، فرانس ، بلجیم ، جرمنی، ہالینڈ، ڈنمارک، ناروے، فن لینڈ، امریکہ و کاناڈا تک پھیل گیا یہ تبلیغی سفر اس وقت شروع ہوا جب اس سرزمین پر سناٹا تھا نہ کسی کو اسلام مذہب سے آشنائی تھی اور نہ معلومات حاصل کرنے میں دلچسپی تھی ناچیز نے سویڈن جیسے دور دراز ملک میں مذہبی سرگرمی کا آغاز کیا جس کے نتیجے میں آج اسکینڈ ے نیون ممالک (سویڈن، ناروے، ڈانمارک، )میں تقریبا ۳۵سے زیادہ علماء دین مستقل خدمات دین انجام دے رہے ہیں اور مختلف شہروں میں مومنین نے انجمنیں قائم کرکے فروغ دین کا سلسلہ قائم کررکھا ہے ہر شہر میں نماز باجماعت اور نماز جمعہ محافل و مجالس کا سلسلہ پابندی سے جاری و ساری ہے
ناچیز نے اس دیار غیر میں تبلیغ کے ساتھ تعمیر مرکز کی طرف بھی توجہ کی اور ۱۹۸۵ میں عالی شان جامع مسجد اور امام بارگاہ تعمیر کروایا اور اسلامی سنٹر قائم کیا جس کے زیر اہتمام عظیم الشان اجتماعات منعقد ہوئے جن میں علما ہند و پاک عراق و ایران و لبنان نے شرکت کی
حقیر نے یورپ میں رہ کر اپنی قلمی خدمات کا سلسلہ جاری رکھا اور بلاد اسلامی سے دور جہاں نہ کتب خانے اسلامی لٹریچر ایسے ماحول میں اہم موضوعات پر علمی اور تحقیقی کتب تالیف کیں اور نابودی وسائل کے باوجود قلمی سفر جاری رکھا اور ہمت نہیں ہارا اور اچھوتے موضوعات کا انتخاب کیا جنہیں بہت پسند کیا گیا میری حسب ذیل کتب شائع ہوکر منظر عام پر آچکی ہیں ۔
۱۔ فخرمریم(جناب فاطمہ بنت اسد کے حالات زندگی)
۲۔ سلمان محمد(سوانح حیات جناب سلمان فارسی)
۳۔ام المومنین جناب ام سلمہ (سوانح عمری)
۴۔متاع رباب(شہزادہ جناب علی اصغر کی سوانح حیات)
۵۔ماریہ قبطیہ (ام المومنین جناب ماریہ قبطیہ)
۶۔ جناب فضہ (کنیز فاطمہ زہرا جناب فضہ کے مختصر حالات)
۷۔جناب میثم تمار (حالات زندگی)
۸۔اسلام کی غلام نوازی (چہاردہ معصومین کے غلاموں کے حالات)
۹۔سویڈن سے ایران (سفر نامہ جمہوری اسلامی ایران)
۱۰۔تعقیبات نماز پنجگانہ(مع سویڈش ترجمہ)
۱۱۔اوقات نماز پنجگانہ (مطابق افق ترولہتن سویڈن)
۱۲۔این انلیڈننگ ٹیل اسلام (سویڈش زبان میں شیعہ دینیات)
۱۳۔حدیث کسا مع سویڈش ترجمہ
۱۴۔دعا سمات مع اردو ترجمہ
۱۵۔معراج المومنین (نماز سے متعلق مجموعہ مضامین )
۱۶۔اوراق خونچکاں(واقعہ کربلا سے متعلق مجموعہ مضامنین)